ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مینگلور کے قریب بیلتنگڈی میں ہوئے دلت نوجوان کے قتل کے الزام میں بجرنگ دل کارکن گرفتار

مینگلور کے قریب بیلتنگڈی میں ہوئے دلت نوجوان کے قتل کے الزام میں بجرنگ دل کارکن گرفتار

Sun, 27 Feb 2022 18:20:02    S.O. News Service

مینگلور 27 فروری (ایس او نیوز) پڑوسی ضلع شموگہ میں بجرنگ دل  کارکن  ہرشا کے قتل کے چند دن بعد مینگلور کے قریبی علاقہ دھرمستھلا کے کنیاڈی میں ایک بجرنگ دل کارکن کے ہاتھوں مبینہ طور پر   ایک دلت نوجوان  کے قتل کی واردات کے بعد پولس نے کرشنا نامی شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔ واردات مینگلور سے  قریب 75 کلو میٹر دور ضلع دکشن کنڑا کے دھرمستھلا میں تین دن پہلے  پیش آئی تھی۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق 23 فروری کو دھرمستھلا کے کنیاڈی میں رام مندر کے باہر معمولی جھگڑے پر مقامی بجرنگ دل کارکن کرشنا نے 41 سالہ دلت شخص دنیش  کی پٹائی کردی، بعد میں   دنیش کو زخمی حالت میں مقامی اسپتال لے جایا گیا  پھر جمعرات کو اسے  مینگلور وینلاک اسپتال شفٹ کیا گیا جہاں جمعہ کو  اس کی موت واقع ہوگئی۔

بتایا گیا ہے کہ  دنیش، دھرمستھلا کے درج فہرست ذات سے  تعلق رکھتا تھا۔   دنیش کی ماں  پدماوتی اور بیوی کویتا نے بتایا کہ  کرشنا نے وینلاک اسپتال کے حکام سے جھوٹ بول کر اپنا جرم چھپانے کی بھی کوشش کی اور اُنہیں کہا کہ دنیش سیڑھیوں سے گر گیا تھا۔

مہلوک دنیش کی ماں کی جانب سے بیلتھنگڈی پولیس اسٹیشن میں کرشنا کے خلاف شکایت درج کرنے کے بعد پولیس نے کرشنا کے خلاف مقدمہ درج کیا،  بعد میں  پولیس نے حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی اور کرشنا  کی تلاش کرتے ہوئے اُسے  گرفتار کرلیا۔

گرفتار  کرشنا کے تعلق سے میڈیا  میں ایک طرف اُسے بجرنگ دل کارکن بتایا گیا ہے تو بعض میڈیا میں اسے  بی جے  پی یُوا مورچہ کا نائب صدر بھی بتایا گیا ہے۔

 دلت شخص کی موت کے بعد بیلتھنگڈی کے سابق ایم ایل اے وسنت  بنگیرا نے بجرنگ دل کارکن کو فوری گرفتار کرنے کی مانگ کرتے ہوئے اُسے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ساتھ ساتھ   حکومت سے مہلوک  شخص کے گھروالوں کو 25 لاکھ روپیوں  کا معاوضہ دینے کا  بھی مطالبہ کیا ۔  اُدھر دوسری طرف  کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے واقعے پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے  ٹویٹ میں لکھاکہ  ، ''دلت نوجوان کا قتل قابل مذمت ہے۔ پولیس کو چاہیے کہ وہ بجرنگ دل کے کارکن کو گرفتار کرے اور متاثرہ کے خاندان کی حفاظت کو یقینی بنائے''۔


Share: